Latest Pakistani ShowBiz News And Update|Celebrity News|News About Pakistani Dramas & Actors.

مفتی تقی عثمانی

یہ تصویر تو باظاہر ایک عام سی تصور ہی ہے، جس میں
ویل چیئر پر بیٹها شخص ساتھ کهڑے شخص سے محوگفتگو ہے- مگر حقیقت میں یہ عالم اسلام کے لیے ایک بڑے سانحہ اور عظیم نقصان سے کم نہیں-

ویل چیئر پر بیٹها شخص کوئی عام شخص نہیں بلکہ عالم اسلام کا چمکتا دمکتا ستارا اور عظیم ہستی مفتی تقی عثمانی صاحب ہے-

جو کہ آج کل علیل ہیں، ڈاکٹر حضرات نے چلنے سے منع کیا ہے، ان کی بیماری کی خبر اور یہ تصویر دیکھ کر مبہوت رہ گیا، دل بےچینی اور ذہن تشویش مبتلا ہوگیا، یقیناً یہ حالت صرف میری نہیں بلکہ ہر اس شخص کی ہوگی جو کسی بهی حوالے سے حضرت سے تعلق اور واقفیت رکھتا ہو-

وقیناً آپ کا وجود صرف پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں، آپ کی سینکڑوں کتابوں سے دنیائے اسلام فیضیاب ہورہی ہیں، آپ کے قلم سے لکها ایک ایک حرف، آپ کی تصنیف کردہ ایک ایک کتاب، آپ کے زبان سے نکلا ایک ایک کلمہ آب زر سے لکهنے کی قابل ہیں- پوری دنیا میں اسلام کا پیغام لیکر گهومے ہیں-

وپ نے جدید مسائل اور بینکنگ کے پیچیدہ مسائل پر جس طرح عالم اسلام کی راہنمائی کی پورا عالم اسلام آپ کا قرض کبھی نہیں چکا پائےگا- آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ نے کبهی خشک فتاویٰ جاری نہیں کئے بلکہ ہر مسئلے کے محرمات بهی بتائیں اور ساتھ میں دلائل سے مزین جائز حل اور متبادل راستہ بهی بتایا-

وللہ تعالیٰ حضرت کو شفائے کاملہ عاجلہ دائمہ مستمر عطاء فرمائے، آپ کی عمر و صحت میں برکت عطا فرمائے، آپ کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم فرمائیں-
Share:

خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی

خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی

خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی برصغیر پاک و ہند میں بارہویں صدی ہجری کے آخر ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا تھے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصغیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصغیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجازمقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔

خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی

مذہب

اسلام

دیگر نام

پیر پٹھان

ذاتی تفصیل پیدائش 1770ء

ڈیرگ ٹاؤن، بلوچستان، پاکستان وفات 1850ء

تونسہ شریف، پنجاب، پاکستان بلند مرتبہ مقام تونسہ شریف، پنجاب، پاکستان دور

اٹھارویں صدی کے آخر اور انیسوین صدی کے شروع میں ولادت و خاندان آپ کا نام محمد سلیمان ہے لوگ آپ کو “پیرپٹھان” کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کے والد کا اسم مبارک زکریا بن عبد الواہاب اور والدہ کا نام بی بی زلیخا ہے۔ آپ کے والد علم و فضل میں یکتا تھے۔ آپکی ولادت 1183ھ، 1769ء کو ضلع لورالائی کے گاؤں گڑگوجی میں ہوئی۔

تعلیم و تربیت آپ نے علم دینی کی تعلیم گڑگوجی، تونسہ شریف، کوٹ مٹھن اور مہار شریف میں حاصل کی اور علوم باطنی کے لیے خواجہ نور محمد مہاروی ( چشتیاں) کے دست مبارک پر بیعت کی اور خلافت حاصل سے سرفراز ہوئے۔

قیام تونسہ مرشد کے انتقال کے بعد 1214ھ بمطابق 1799ء میں گڑگوجی سے ہجرت کر کے تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان) میں مقیم ہو گئے اور خلق خدا کی رہنمائی کرنے لگے۔ آپ کا فیض عام ہو گیا اور لوگ جوق در جوق بیعت کرنے لگے۔ آپ کے تشریف لانے سے قبل تونسہ شریف سنگھڑ ندی کے کنارے چند گھروں پر مشتمل ایک غیر معروف گاؤں تھا۔ جب آپ تونسہ میں آ کر مقیم ہوئے تو یہ غیر معروف گاؤں علم و عرفان کا مرکز بن گیا اور طاؤسہ سے تونسہ شریف کہلانے لگا۔

دینی خدمات تیرہویں صدی ہجری و اٹھارویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مسلمانوں کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہونے کو تھا آخری مسلم حکومت یعنی مغلیہ سلطنت اپنی آخری سانس لے رہی تھی اس کی حدود صرف دہلی تک محدود ہو چکیں تھیں۔ مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں نے افراتفری مچا رکھی تھی۔ حکومت کابل کی شوکت روبہ زوال تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر سکھوں نے پنجاب پر اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ انگریز کی نظر تخت دہلی پر لگی ہوئی تھی۔ آپ نے تونسہ شریف میں عظیم علمی و دینی درسگاہ قائم کی جہاں پچاس سے زائد علما و صوفیا فارسی، عربی، حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، سائنس، طب و ہندسہ وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے۔ طلبہ کی تعداد ان مدارس میں ڈیڑھ ہزار سے زائد تھی۔ طلبہ، علما و فقراء کو لنگرخانہ سے کھانا، کپڑے، جوتے،کتابیں، ادویہ اور دیگر تمام ضروریات زندگی ملتی تھیں۔ آپ کو درس و تدریس کا بے حد شوق تھا۔ مریدین و خلفاء کو کتب تصوف کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کے خلفاء نے برصغیر پاک وہند کے طول وعرض میں اور اس سے باہر اپنی خانقاہیں قائم کیں۔ دینی مدارس کا اجرا کیا لنگر خانے قائم کیے۔ پاکستان میں تونسہ شریف، مکھڈشریف، ترگھ شریف، میرا شریف، گڑھی افغانان، سیال شریف، جلال پور، گولڑہ شریف اور بھیرہ شریف وغیرہ کے مدارس قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس میں نہ صرف اعلٰی درجہ کی تعلیم دی جاتی بلکہ اعلٰی درجہ کی تربیت بھی کی جاتی۔

تونسہ شریف کی خانقاہ برصغیر پاک و ہند میں صوفیا کی خانقاہوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی علمی، دینی، اصلاحی، اخلاقی و روحانی تعلیمات نے معاشرے کے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ان میں عام مسلمانوں کے علاوہ علما و صوفیا اور رؤساء بھی شامل ہیں۔ علما اور عوام کے بڑے بڑے والیاں ریاست اور جاگیردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اکثر والیاں ریاست گدی پر بیٹھتے وقت آپ کے دست مبارک سے پگڑی بندھوانے کی خواہش کرتے مگر آپ راضی نہ ہوتے۔ سنگھڑ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ریاست بہاولپور کے نواب، افغانستان سے والی ریاست شاہ شجاع محمدپوتے احمد شاہ ابدالی و میر دوست محمد والی افغانستان اور پنجاب، سرحدو افغانستان کی چھوٹی بڑی ریاستوں کے نواب کئی مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کی شان میں علما، صوفیا اور شعرا نے عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبان میں بے شمار تذکرے، مناقب، قصائد اور سلام عقیدت لکھے۔

سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم علی بن ابی طالب حسن بصری عبدالواحد بن زید فوزيل بن اياز ابراہیم بن ادہم سعدی الدین حذیفہ امین الدین حبیرا کریم الدین ممشاد ابو اسحاق شمی ابو احمد عبد ال ابو احمد ناصر الدین ابو یوسف قطب الدین مودود حاجی شرف زندانی عثمان حروانی معین الدین حسن قطب الدین بختیار کاکی بابا فرید الدین گنج شکر نظام الدین اولیاء نصيرالدین محمود چراغ دہلوی کمال الدین علامہ سراج الدین المودين محمود راجن جمال الدین جُمن محمد حسن شیخ محمد معین الدین یوسف يحيىٰ مدنی شاہ کلیم اللہ جيہانبادی نظام الدین دہلوی اورنگ آبادی فخرالدین محمد نور محمد مہاروی شاہ محمد سلیمان تونسوی خلفاء ترميم چند مشہور خلفاء کے اسماء گرامی یہ ہیں۔

صاحبزادہ خواجہ گل محمد خواجہ اللہ بخش تونسوی مولانا محمد علی مکھڈی حافظ سید محمد علی خیر آبادی سید حسن عسکری دہلوی مولانا شمس الدین سیالوی مولانا فیض بخش الہی خواجہ میاں باران صاحب میاں گامنڑ صاحب وفات

آپ نے ماہ صفرالمظفر کی 7 تاریخ 1267ھ کو سحری کے وقت 84 برس کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے حجرہ عبادت میں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر نواب بہاولپور ثالث (1825ء تا 1852ء) مرید خواجہ تونسوی نے 85 ہزار روپے کی لاگت سے ایک عالیشان مقبرہ 1270ء میں مکمل کرایا

Share:

JPNA 2 BecomesThe First Pakistani Movie to Make Rs60 Crore!

This year was the release of the highly anticipated movie Jaawani Phir Nahi Aani 2 which saw the return of Humayun Saeed, Ahmed Ali Butt and Vasay Chaudhry along with a new addition in Fahad Mustafa's face after Hamza Ali Abbasi had bid adieu to the team.

The crowd already loved the movie and the craze heigtened at its realease. We now have some great news to share with you all as JPNA 2 has become the first Pakistani movie ever to cross the Rs60 Crore mark!

Producer and lead actor Humayun Saeed took to his social media accounts to thank his fans for the movies success.

"First Pakistani movie to cross the 60-crore mark. Masha Allah. Thank you to all of you for your consistent love and support," he excitedly wrote.

Written by Vasay Chaudhry with his umatchable humor and directed by Nadeem Baig who is busy giving us back to back hits, the movie has been loved by many due to its light subject, humor and entertainment that gives you a break from routine life. The dialogues are just another plus point to laugh your heart out!

Though we personally we loved the first part more, it is eventually the audience who decides which movie is a hit and which is a flop and the public has clearly opted for JPNA 2. We at HIP would like to congratulate everyone associated with the movie on achieving such a milestone. We do hope that even in the future the team continues to make awesome movies that is expected from this camp of brilliant people.

Share:

Search This Blog

مفتی تقی عثمانی

یہ تصویر تو باظاہر ایک عام سی تصور ہی ہے، جس میں ویل چیئر پر بیٹها شخص ساتھ کهڑے شخص سے محوگفتگو ہے- مگر حقیقت میں یہ عالم اسلام کے لیے ایک...

Labels

Recent Posts

Unordered List

  • Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit.
  • Aliquam tincidunt mauris eu risus.
  • Vestibulum auctor dapibus neque.

Label Cloud

Latest (2)

Sample Text

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipisicing elit, sed do eiusmod tempor incididunt ut labore et dolore magna aliqua. Ut enim ad minim veniam, quis nostrud exercitation test link ullamco laboris nisi ut aliquip ex ea commodo consequat.

Pages

Theme Support

Need our help to upload or customize this blogger template? Contact me with details about the theme customization you need.